سورت 79
An-Naazi'aat
النازعات
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلنَّـٰزِعَـٰتِ غَرْقًا
ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم![1]
حاشیہ [1] نَزْعٌ کے معنی، سختی سے کھینچنا، غَرْقًا ڈوب کر۔ یہ جان نکالنے والے فرشتوں کی صفت ہے فرشتے کافروں کی جان، نہایت سختی سے نکالتے ہیں اور جسم کے اندر ڈوب کر۔
وَٱلنَّـٰشِطَـٰتِ نَشْطًا
بند کھول کر چھڑا دینے والوں کی قسم![1]
حاشیہ [1] نَشْطٌ کے معنی، گرہ کھول دینا، یعنی مومن کی جان فرشتے بہ سہولت نکالتے ہیں، جیسے کسی چیز کی گرہ کھول دی جائے۔
وَٱلسَّـٰبِحَـٰتِ سَبْحًا
اور تیرنے پھرنے والوں کی قسم![1]
حاشیہ [1] سَبْحٌ کے معنی، تیرنا، فرشتے روح نکالنے کے لئے انسان کے بدن میں اس طرح تیرتے پھرتے ہیں جیسے غواص سمندر سےموتی نکالنے کے لئے سمندر کی گہرائیوں میں تیرتا ہے۔ یا مطلب ہے کہ نہایت تیزی سے اللہ کا حکم لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔ کیونکہ تیز رو گھوڑے کو بھی سابح کہتے ہیں۔
فَٱلسَّـٰبِقَـٰتِ سَبْقًا
پھر دوڑ کر آگے بڑھنے والوں کی قسم![1]
حاشیہ [1] یہ فرشتے اللہ کی وحی، انبیا تک، دوڑ کر پہنچاتے ہیں تاکہ شیطان کو اس کی کوئی سن گن نہ ملے۔ یا مومنوں کی روحیں جنت کی طرف لے جانے میں نہایت سرعت سے کام لیتے ہیں۔
فَٱلْمُدَبِّرَٰتِ أَمْرًا
پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم![1]
حاشیہ [1] یعنی اللہ تعالیٰ جو کام ان کے سپرد کرتا ہے، وہ اس کی تدبیر کرتے ہیں اصل مدبر تو اللہ تعالیٰ ہی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرشتوں کے ذریعے سے کام کرواتا ہے تو انہیں بھی مدبر کہہ دیا جاتا ہے۔ اعتبار سے پانچوں صفات فرشتوں کی ہیں اور ان فرشتوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔ جواب قسم محذوف ہے یعنی لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ (تم ضرور زندہ کیے جاؤ گے اور تمہیں تمہارے عملوں کی بابت خبر دی جائے گی)۔ قرآن نے اس بعث وجزاء کے لئے کئی مواقع پر قسم کھالی ہے جیسے سورۂ تغابں: 7 میں بھی اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر مذکورہ الفاظ میں اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔ یہ بعث وجزا کب ہوگی؟ اس کی وضاحت آگے فرمائی۔
يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ
جس دن کانپنے والی کانپے گی.[1]
حاشیہ [1] یہ نفخۂ اولیٰ ہے جسے نفخۂ فنا کہتے ہیں، جس سے ساری کائنات کانپ اور لرز اٹھے گی اور ہر چیز فنا ہو جائے گی۔
تَتْبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ
اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی (پیچھے پیچھے) آئے گی.[1]
حاشیہ [1] یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آئیں گے۔ یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سےچالیس سال بعد ہوگا۔ اسے رَادِفَةٌ اس لئےکہا ہے کہ یہ پہلے نفخے کے بعد ہی ہوگا۔ یعنی نفخۂ ثانیہ، نفخۂ اولیٰ کا ردیف ہے۔
قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ
(بہت سے) دل اس دن دھڑکتے ہوں گے.[1]
حاشیہ [1] قیامت کےاہوال اور شدائد سے۔
أَبْصَـٰرُهَا خَـٰشِعَةٌ
جن کی نگاہیں نیچی ہوں گی.[1]
حاشیہ [1] یعنی أَبْصَارُ أَصْحَابِهَا، ایسے دہشت زدہ لوگوں کی نظریں بھی ( مجرموں کی طرح ) جھکی ہوئی ہوں گی۔
يَقُولُونَ أَءِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِى ٱلْحَافِرَةِ
کہتے ہیں کہ کیا ہم پہلی کی سی حالت کی طرف پھر لوٹائے جائیں گے؟[1]
حاشیہ [1] حَافِرَةٌ، پہلی حالت کو کہتے ہیں۔ یہ منکریں قیامت کا قول ہے کہ کیا ہم پھر اس طرح زندہ کر دیئے جائیں گےجس طرح مرنے سے پیشتر تھے؟
أَءِذَا كُنَّا عِظَـٰمًا نَّخِرَةً
کیا اس وقت جب کہ ہم بوسیده ہڈیاں ہو جائیں گے؟[1]
حاشیہ [1] یہ انکار قیامت کی مزید تاکید ہے کہ ہم کس طرح زندہ کردیئےجائیں گے جب کہ ہماری ہڈیاں بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔
قَالُوا۟ تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ
کہتے ہیں کہ پھر تو یہ لوٹنا نقصان ده ہے[1]
حاشیہ [1] یعنی اگر واقعی ایسا ہوا جیسا کہ محمد ( (صلى الله عليه وسلم) ) کہتاہے، پھر تو یہ دوبارہ زندگی ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہوگی۔
فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌ وَٰحِدَةٌ
(معلوم ہونا چاہئے) وه تو صرف ایک (خوفناک) ڈانٹ ہے.
فَإِذَا هُم بِٱلسَّاهِرَةِ
کہ (جس کے ظاہر ہوتے ہی) وه ایک دم میدان میں جمع ہو جائیں گے.[1]
حاشیہ [1] سَاهِرَةٌ سےمراد زمین کی سطح یعنی میدان ہے۔ سطح زمین کو سَاهِرَةٌ اس لئےکہا گیا ہے کہ تمام جانداروں کا سونا اور بیدار ہونا، اسی زمین پر ہوتا ہے، بعض کہتے ہیں کہ چٹیل میدانوں اور صحراوں میں خوف کی وجہ سےانسان کی نیند اڑ جاتی ہےاور وہاں بیدار رہتاہے، اس لئے سَاهِرَةٌ کہا جاتا ہے۔ ( فتح القدیر ) بہرحال یہ قیامت کی منظر کشی ہے کہ ایک ہی نفخے سے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہو جائیں گے۔
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ
کیا موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟
إِذْ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى
جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا.[1]
حاشیہ [1] یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ (عليه السلام) مدین سے واپس آگ کی تلاش میں کوہ طور پر پہنچ گئے تھے تو وہاں ایک درخت کی اوٹ سے اللہ تعالیٰ نےموسیٰ (عليه السلام) سے کلام فرمایا، جیسا کہ اس کی تفصیل سورۂ طہ کے آغاز میں گزری طُوَى اسی جگہ کا نام ہے، ہم کلامی کا مطلب نبوت ورسالت سےنوازنا ہے۔ یعنی موسیٰ (عليه السلام) آگ لینے گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں رسالت عطا فرما دی۔
ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ
(کہ) تم فرعون کے پاس جاؤ اس نے سرکشی اختیار کر لی ہے.[1]
حاشیہ [1] یعنی کفر ومعصیت اور تکبر میں حد سےتجاوز کر گیا ہے۔
فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ
اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے.[1]
حاشیہ [1] یعنی کیا ایسا راستہ اور طریقہ تو پسندکرتا ہےجس سے تیری اصلاح ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اور مطیع ہو جا۔
وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ
اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی راه دکھاؤں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے.[1]
حاشیہ [1] یعنی اس کی توحید اور عبادت کا راستہ، تاکہ تو اس کے عقاب سے ڈرے۔ اس لئے کہ اللہ کا خوف اسی دل میں پیدا ہوتا ہے جو ہدایت پر چلنے والا ہوتا ہے۔
فَأَرَىٰهُ ٱلْـَٔايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ
پس اسے بڑی نشانی دکھائی.[1]
حاشیہ [1] یعنی اپنی صداقت کے وہ دلائل پیش کئے جو اللہ کی طرف سے انہیں عطا کئے گئے تھے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (عليه السلام) کو دیئے گئے تھے۔ مثلاً ید بیضا اور عصا اور بعض کے نزدیک آیات تسعہ۔
فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ
تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی.[1]
حاشیہ [1] لیکن ان دلائل ومعجزات کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا اور تکذیب ونافرمانی کےراستے پر وہ گامزن رہا۔
ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ
پھر پلٹا دوڑ دھوپ کرتے ہوئے.[1]
حاشیہ [1] یعنی اس نے ایمان واطاعت سےاعراض ہی نہیں کیا بلکہ زمین میں فساد پھیلانے اور موسیٰ (عليه السلام) کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتا رہا، چنانچہ جادوگروں کو جمع کرکے ان کا مقابلہ حضرت موسیٰ (عليه السلام) سےکرایا، تاکہ موسیٰ (عليه السلام) کو جھوٹا ثابت کیا جا سکے۔
فَحَشَرَ فَنَادَىٰ
پھر سب کو جمع کرکے پکارا.[1]
حاشیہ [1] اپنی قوم کو، یا قتال ومحاربہ کے لئے اپنے لشکروں کو، یا جادوگروں کو مقابلے کے لئے جمع کیا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ربوبیت اعلیٰ کا علان کیا۔
فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلْأَعْلَىٰ
تم سب کا رب میں ہی ہوں.
فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلْـَٔاخِرَةِ وَٱلْأُولَىٰٓ
تو (سب سے بلند وباﻻ) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کرلیا.[1]
حاشیہ [1] یعنی اللہ نے اس کی ایسی گرفت فرمائی کہ اسے دنیا میں آئندہ آنے والے متمردین کےلئے نشان عبرت بنا دیا اور قیامت کا عذاب اس کےعلاوہ ہے، جو اسے وہاں ملے گا۔
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰٓ
بیشک اس میں اس شخص کے لئے عبرت ہے جو ڈرے.[1]
حاشیہ [1] اس میں نبی (صلى الله عليه وسلم) کےلئے تسلی اور کفار مکہ کو تنبیہ ہے کہ اگر انہوں نےگزشتہ لوگوں کے واقعات سے عبرت نہ پکڑی تو ان کا انجام بھی فرعون کی طرح ہو سکتا ہے۔
ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا
کیا تمہارا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا آسمان کا[1] ؟ اللہ تعالیٰ نے اسے بنایا.
حاشیہ [1] یہ کفار مکہ کو خطاب ہے اور مقصود زجر وتوبیخ ہے کہ جو اللہ اتنے بڑے آسمانوں اور ان کے عجائبات کو پیدا کر سکتا ہے، اس کے لئے تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کون سا مشکل ہے۔ کیا تمہیں دوبارہ پیدا کرنا آسمان کے بنانے سے زیادہ مشکل ہے؟
رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّىٰهَا
اس کی بلندی اونچی کی پھر اسے ٹھیک ٹھاک کر دیا.[1]
حاشیہ [1] بعض نے سَمْكٌ کےمعنی چھت بھی کیے ہیں، ٹھیک ٹھاک کرنے کا مطلب، اسےایسی شکل وصورت میں ڈھالنا ہے کہ جس میں کوئی تفاوت، کجی، شگاف اور خلل باقی نہ رہے۔
وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا
اسکی رات کو تاریک بنایا اور اس کے دن کو نکالا.[1]
حاشیہ [1] أَغْطَشَ أَظْلَمَ أَخْرَجَ کا مطلب أَبْرَز َ اور نَهَارَهَا کی جگہ ضُحَاهَا اس لئے کہا کہ چاشت کا وقت سب سےاچھا اور عمدہ ہے۔ مطلب ہے کہ دن کو سورج کے ذریعے سے روشن بنایا۔
وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ
اور اس کے بعد زمین کو (ہموار) بچھا دیا.[1]
حاشیہ [1] یہ حم السجدۃ:9 میں گزر چکا ہے کہ خَلَقَ ( پیدائش ) اور چیز ہے اور دَحَى( ہموار کرنا ) اور چیز ہے۔ زمین کی تخلیق آسمان سے پہلی ہوئی لیکن اس کو ہموار آسمان کی پیدائش کے بعد کیا گیا ہےاور یہاں اسی حقیقت کا بیان ہے۔ اور ہموار کرنے یا پھیلانے کا مطلب ہے کہ زمین کو رہائش کےقابل بنانے کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہے اللہ نے ان کا اہتمام فرمایا، مثلاً زمین سے پانی نکالا، اس میں چارہ اور خوراک پیدا کی، پہاڑوں کو میخوں کی طرح مضبوط گاڑ دیا تاکہ زمین نہ ہلے۔ جیسا کہ یہاں بھی آگے یہی بیان ہے۔
أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا
اس میں سے پانی اور چاره نکالا.
وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا
اور پہاڑوں کو (مضبوط) گاڑ دیا.
مَتَـٰعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَـٰمِكُمْ
یہ سب تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدے کے لئے (ہیں).
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ
پس جب وه بڑی آفت (قیامت) آجائے گی.
يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَـٰنُ مَا سَعَىٰ
جس دن کہ انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا.
وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ
اور (ہر) دیکھنے والے کے سامنے جہنم ظاہر کی جائے گی.[1]
حاشیہ [1] یعنی کافروں کے سامنے کر دی جائے گی تاکہ وہ دیکھ لیں کہ اب ان کا دائمی ٹھکانہ جہنم ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مومن اور کافر دونوں ہی اسے دیکھیں گے، مومن اسےدیکھ کر اللہ کا شکر کریں گے کہ اس نے ایمان اور اعمال صالحہ کی بدولت انہیں اس سے بچا لیا، اور کافر، جو پہلے ہی خوف ودہشت میں مبتلا ہوں گے، اسے دیکھ کر ان کے غم وحسرت میں اور اضافہ ہو جائے گا۔
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ
تو جس (شخص) نے سرکشی کی (ہوگی).[1]
حاشیہ [1] یعنی کفر ومعصیت میں حد سے تجاوز کیاہوگا۔
وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا
اور دنیوی زندگی کو ترجیح دی (ہوگی).[1]
حاشیہ [1] یعنی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھا ہوگا اور آخرت کے لئے کوئی تیاری نہیں کی ہوگی۔
فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ
اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے.[1]
حاشیہ [1] اس کےعلاوہ اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا۔ جہاں وہ اس سے بچ کر پناہ لے لے۔
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ
ہاں جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے[1] سے ڈرتا رہا ہوگا اور اپنے نفس کو خواہش سے روکا ہوگا.[2]
حاشیہ [1] کہ اگر میں نے گناہ اور اللہ کی نافرمانی کی تو مجھے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا، اس لئے وہ گناہوں سے اجتناب کرتا رہا ہو۔ [2] یعنی نفس کو ان معاصی اور محارم کے ارتکاب سے روکتا رہا ہو جن کی طرف نفس کا میلان ہوتا تھا۔
فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ
تو اس کا ٹھکانا جنت ہی ہے.[1]
حاشیہ [1] جہاں وہ قیام پذیر، بلکہ اللہ کا مہمان ہوگا۔
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا
لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں.[1]
حاشیہ [1] یعنی قیامت کب واقع اور قائم ہوگی ؟ جس طرح کشتی اپنے آخری مقام پر پہنچ کر لنگر انداز ہوتی ہے اسی طرح قیامت کے وقوع کا صحیح وقت کیا ہے؟
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ
آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟[1]
حاشیہ [1] یعنی آپ کو اس کی بابت یقینی علم نہیں ہے، اس لئے آپ کا اس کو بیان کرنے سے کیا تعلق؟ اس کا یقینی علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ
اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے.
إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا
آپ تو صرف اس سے ڈرتے رہنے والوں کو آگاه کرنے والے ہیں.[1]
حاشیہ [1] یعنی آپ کا کام صرف انذار ( ڈرانا ) ہے، نہ کہ غیب کی خبریں دینا، جن میں قیامت کا علم بھی ہے جو اللہ نے کسی کو بھی نہیں دیا۔ مَنْ يَخْشَاهَا اس لئے کہا کہ انذار وتبلیغ سے اصل فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہوتا ہے، ورنہ انذار وتبلیغ کا حکم تو ہر ایک کے لئےہے۔
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا
جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں.[1]
حاشیہ [1] عَشِيَّةً، ظہر سے لے کر غروب شمس تک اور ضحیٰ، طلوع شمس سے نصف النہار تک کے لئے بولا جاتا ہے۔ یعنی جب کافر جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو دنیا کی عیش وعشرت اور اس کےمزے سب بھول جائیں گے اور انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ وہ دنیا میں پورا ایک دن بھی نہیں رہے۔ دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہوگی۔