میونخ کے لیے نماز کے اوقات

جمعہ کی نماز 13:30

سورت 92

Al-Lail

الليل

21 آیات، مکی · Muhammad Junagarhi

بعد میں ٹھیک وہیں سے پڑھنے کے لیے کسی آیت کے ساتھ بک مارک کا نشان دبائیں۔

فونٹ سائز
  1. بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ

    قسم ہے رات کی جب چھا جائے.[1]

    حاشیہ [1] یعنی افق پر چھا جائے جس سے دن کی روشنی ختم اور اندھیرا ہو جائے۔

  2. وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ

    اور قسم ہے دن کی جب روشن ہو.[1]

    حاشیہ [1] یعنی رات کا اندھیرا ختم اور دن کا اجالا پھیل جائے۔

  3. وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ

    اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر وماده کو پیدا کیا.[1]

    حاشیہ [1] یہ اللہ نے اپنی قسم کھائی، کیونکہ مرد وعورت دونوں کا خالق اللہ ہی ہے ماموصولہ ہے۔ - یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔

  4. إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ

    یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے.[1]

    حاشیہ [1] یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے شَتَّى، شَتِيتٌ کی جمع ہے، جیسے مَرِيضٌ کی جمع مَرْضَى۔

  5. فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَٱتَّقَىٰ

    جس نے دیا (اللہ کی راه میں) اور ڈرا (اپنے رب سے).[1]

    حاشیہ [1] یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔

  6. وَصَدَّقَ بِٱلْحُسْنَىٰ

    اور نیک بات کی تصدیق کرتا رہے گا.[1]

    حاشیہ [1] یا اچھے صلے کی تصدیق کرے گا، یعنی اس بات پر یقین رکھے گا کہ انفاق اور تقویٰ کا اللہ کی طرف سے عمدہ صلہ ملے گا۔

  7. فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْيُسْرَىٰ

    تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے.[1]

    حاشیہ [1] يُسْرَى کا مطلب نیکی اور الْخَصْلَةُ الْحُسْنَى ہے۔ یعنی ہم اس کو نیکی واطاعت کی توفیق دیتے اور ان کو اس کے لئے آسان کر دیتے ہیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے چھ غلام آزاد کیے، جنہیں اہل مکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے سخت اذیت دیتے تھے۔ ( فتح القدیر ) ۔

  8. وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسْتَغْنَىٰ

    لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی.[1]

    حاشیہ [1] یعنی اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بے پرواہی، کرے گا۔ - یا آخرت کی جزا اور حساب کتاب کا انکار کرے گا۔

  9. وَكَذَّبَ بِٱلْحُسْنَىٰ

    اور نیک بات کی تکذیب کی.[1]

    حاشیہ [1] یا آخرت کی جزا اور حساب کتاب کا انکار کرے گا۔-

  10. فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْعُسْرَىٰ

    تو ہم بھی اس کی تنگی ومشکل کے سامان میسر کر دیں گے.[1]

    حاشیہ [1] عُسْرَى( تنگی ) سےمراد کفر ومعصیت اور طریق شر ہے۔ یعنی ہم اس کے لئے نافرمانی کا راستہ آسان کر دیں گے، جس سے اس کے لئے خیر وسعادت کے راستے مشکل ہو جائیں گے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ جو خیر ورشد کا راستہ اپناتا ہے، اس کے صلے میں اللہ اسے خیر کی توفیق سے نوازتا ہے اور جو شر ومعصیت کو اختیار کرتا ہے، اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑدیتا ہے اور یہ اس تقدیر کے مطابق ہی ہوتا ہے جو اللہ نے اپنے علم سے لکھ رکھی ہے۔ ( ابن کثیر ) یہ مضمون حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ نبی (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا تم عمل کرو، ہر شخص جس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لئے آسان کر دیا جاتا ہے، جو اہل سعادت سے ہوتا ہے، اسے اہل سعادت والے عمل کی توفیق دے دی جاتی ہے اور جو اہل شقاوت سے ہوتا ہے، اس کے لئے اہل شقاوت والے عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں۔ ( صحيح البخاري، تفسير سورة الليل )

  11. وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُۥٓ إِذَا تَرَدَّىٰٓ

    اس کا مال اسے (اوندھا) گرنے کے وقت کچھ کام نہ آئے گا.[1]

    حاشیہ [1] یعنی جب جہنم میں گرے گا تو یہ مال، جسے وہ خرچ نہیں کرتا تھا، کچھ کام نہ آئے گا۔

  12. إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ

    بیشک راه دکھا دینا ہمارے ذمہ ہے.[1]

    حاشیہ [1] یعنی حلال اور حرام، خیر اور شر، ہدایت اور ضلالت کو واضح اور بیان کرنا ہمارے ذمے ہے۔ ( جو کہ ہم نے کر دیا ہے)

  13. وَإِنَّ لَنَا لَلْـَٔاخِرَةَ وَٱلْأُولَىٰ

    اور ہمارے ہی ہاتھ آخرت اور دنیا ہے.[1]

    حاشیہ [1] یعنی دونوں کے مالک ہم ہی ہیں، ان میں جس طرح چاہیں تصرف کریں اس لئے ان دونوں کے یا ان میں سے کسی ایک کے طالب ہم سے ہی مانگیں کیوں کہ ہر طالب کو ہم ہی اپنی مشیت کے مطابق دیتے ہیں۔

  14. فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ

    میں نے تو تمہیں شعلے مارتی ہوئی آگ سے ڈرا دیا ہے.

  15. لَا يَصْلَىٰهَآ إِلَّا ٱلْأَشْقَى

    جس میں صرف وہی بدبخت داخل ہوگا.

  16. ٱلَّذِى كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ

    جس نے جھٹلایا اور (اس کی پیروی سے) منھ پھیر لیا.[1]

    حاشیہ [1] اس آیت سے مرجئہ فرقے نے (جو ایک باطل فرقہ گزرا ہے) استدلال کیا ہے کہ جہنم میں صرف کافر ہی جائیں گے۔ کوئی مسلمان چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو، وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ لیکن یہ عقیدہ ان نصوص صریحہ کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے مسلمان بھی، جن کو اللہ تعالیٰ کچھ سزا دینا چاہے گا، کچھ عرصے کے لئے جہنم میں جائیں گے، پھر وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) ، ملائکہ اور دیگر صالحین کی شفاعت سے نکال لئے جائیں گے، یہاں حصر کے انداز میں جو کہا گیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ پکے کافر اور نہایت بدبخت ہیں، جہنم دراصل ان ہی کے لئے بنائی گئی ہے، جس میں وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لئے داخل ہوں گے۔ اگر کچھ نافرمان قسم کے مسلمان جہنم میں جائیں گے تو وہ لازمی اور حتمی طور پر اور ہمیشہ کے لئے نہیں جائیں گے، بلکہ بطور سزا ان کا یہ دخول عارضی ہوگا۔ ( فتح القدیر )۔

  17. وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلْأَتْقَى

    اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا جو بڑا پرہیزگار ہو گا.[1]

    حاشیہ [1] یعنی جہنم سے دور رہے گا اور جنت میں داخل ہوگا۔

  18. ٱلَّذِى يُؤْتِى مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ

    جو پاکی حاصل کرنے کے لئے اپنا مال دیتا ہے.[1]

    حاشیہ [1] یعنی جو اپنا مال اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرتا ہے تاکہ اس کا نفس بھی اور اس کا مال بھی پاک ہو جائے۔

  19. وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعْمَةٍ تُجْزَىٰٓ

    کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو.[1]

    حاشیہ [1] یعنی بدلہ اتارنے کے لیے خرچ نہ کرتا ہو۔

  20. إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ ٱلْأَعْلَىٰ

    بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کے لئے.[1]

    حاشیہ [1] بلکہ اخلاص سے اللہ کی رضا اور جنت میں اس کے دیدار کے لئے خرچ کرتا ہے۔

  21. وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ

    یقیناً وه (اللہ بھی) عنقریب رضامند ہو جائے گا.[1]

    حاشیہ [1] یا وہ راضی ہو جائے گا، یعنی جو شخص ان صفات کا حامل ہوگا، اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتیں اور عزت وشرف عطا فرمائے گا، جس سے وہ راضی ہو جائے گا۔ اکثر مفسرین نے کہا ہے بلکہ بعض نے اجماع تک نقل کیا ہے کہ یہ آیات حضرت ابوبکر صدیق (رضي الله عنه) کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ تاہم معنی ومفہوم کے اعتبار سے یہ عام ہیں۔ جو بھی ان صفات عالیہ سے متصف ہوگا، وہ بارگاہ الٰہی میں ان کا مصداق قرار پائے گا۔